حمل کے دوران سوڈیم ویلپرویٹ کے استعمال پر ماؤں میں ’احساسِ جرم اور غصہ‘

حمل کے دوران مرگی کی دوا سوڈیم ویلپرویٹ استعمال کرنے والی ایسی خواتین، جن کا کہنا ہے کہ انہیں ممکنہ پیدائشی نقائص کے خطرات سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا، نے اپنے بچوں کی صحت پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے ”احساسِ جرم اور غصے“ کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

سوڈیم ویلپرویٹ مرگی کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا ہے اور اسے بعض صورتوں میں بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج کے لیے بھی تجویز کیا جاتا ہے۔ تاہم، حمل کے دوران اس دوا کے استعمال سے بچے میں بعض سنگین پیدائشی نقائص اور نشوونما سے متعلق مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

حمل کے دوران دوا کے سنگین خطرات

طبی ماہرین کے مطابق حمل کے دوران رحم میں سوڈیم ویلپرویٹ سے متاثر ہونے والے بچوں میں بعض جسمانی نقائص کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ان میں اسپائنا بائیفیڈا اور کلیفٹ پیلیٹ جیسے پیدائشی نقائص شامل ہیں، جبکہ دوا کے استعمال کو بچوں میں بعض نیورو ڈیولپمنٹل مسائل سے بھی جوڑا گیا ہے۔

اب اس دوا کے ساتھ حمل کے دوران اس کے ممکنہ خطرات کے بارے میں واضح انتباہات شامل کیے جاتے ہیں، جبکہ ڈاکٹروں کو ایسے مریضوں کے لیے علاج تجویز کرتے وقت ممکنہ خطرات پر خصوصی توجہ دینا ہوتی ہے۔

متاثرہ ماں نے کیا کہا؟

60 سالہ سوزن جیمیسن نے بتایا کہ جب وہ 1990 کی دہائی میں حاملہ تھیں تو انہیں سوڈیم ویلپرویٹ کے ممکنہ نقصانات کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق بعد میں خطرات کے بارے میں جاننے سے متاثرہ ماؤں میں احساسِ جرم، غصے اور بے بسی جیسے جذبات پیدا ہوسکتے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ معاملہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ آیا ماؤں کو اس وقت علاج اور حمل سے متعلق ممکنہ خطرات کے بارے میں مناسب معلومات فراہم کی گئی تھیں یا نہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ

سوڈیم ویلپرویٹ سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے خاندانوں کے لیے معاوضے اور مالی مدد کے مطالبات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

2020 میں ایک جائزے میں متاثرہ افراد کے لیے معاوضے کی سفارش کی گئی تھی، جبکہ 2024 کی ایک رپورٹ میں متاثرہ خاندانوں کو ازالہ فراہم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

متاثرہ خاندان اور مہم چلانے والے افراد طویل عرصے سے اس معاملے میں تسلیم کیے جانے، جواب دہی اور مناسب مدد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ادویات کے خطرات سے آگاہی ضروری

سوڈیم ویلپرویٹ کا معاملہ اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ مریضوں کو ادویات کے ممکنہ فوائد اور خطرات کے بارے میں واضح اور مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔

حمل کے امکانات رکھنے والی خواتین کے لیے ایسی ادویات کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے ممکنہ خطرات اور متبادل علاج کے بارے میں مشورہ کرنا ضروری ہے۔

سوڈیم ویلپرویٹ سے متاثرہ خاندانوں کی جانب سے انصاف، معاوضے اور مناسب معاونت کے مطالبات کے باعث یہ معاملہ بدستور عوامی اور طبی توجہ کامرکز بنا ہوا ہے۔

Related posts

Leave a Comment